اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کی خلاف وزری متعدد فضائی حملے

66

اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ گزشتہ ماہ 21 مئی کو ہونے والی جنگ بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جنگی طیاروں سے غزہ پٹی میں متعدد حملے کیے ہیں۔

اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطین پر جنگی طیاروں سے حملے شروع کردیے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطین پر جنگی طیاروں سے حملے شروع کردی

فضائی حملے حماس اور ٹھکانے

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ فضائی حملے حماس کے ٹھکانے پر کیے گئے جہاں وہ تل ابیب پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔

منگل کے روز سیکڑوں انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی نوجوانوں نے مشرقی بیت المقدس یروشلم میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے مارچ کیا اور عرب مخالف نعرے لگائے۔

اسرائیل میں آگ

کہا جارہا ہے کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر تشدد کو ہوا ملی ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں نے جنوبی اسرائیل میں آگ لگانے والے غبارے چھوڑے جس سے کم سے کم 10 مقامات پر معمولی آگ لگ گئی۔

فلسطینی مارچ اشتعال انگیزی قرار دیا اور حماس نے فلسطینیوں سے پریڈ کی ‘مزاحمت’ کرنے کا مطالبہ کیا۔

گاؤں کو نذر آتش

ایک موقع پر کئی درجن اسرائیلی نوجوانوں نے ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے نعرہ لگایا کہ ‘عربوں کی موت ہو’ ایک اور عرب مخالف نعرے میں انہوں نے چیخ کر کہا کہ ‘تمہارے گاؤں کو نذر آتش کریں’۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ نے مارچ کی مذمت کی اور کہا کہ جو اسرائیلی مظاہرین جو نسل پرستی پر مبنی نعرے لگارہےہیں دراصل وہ اسرائیلی لوگوں کے لیے ندامت کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ان انتہاپسندوں کی وجہ سے اسرائیلی کا پرچم نفرت اور نسل پرستی کی علامت بن چکا ہے جو کہ ناقابل فہم اور نظر انداز ہے۔

اسرائیل میں برسر اقتدار آنے والی اتحاد جماعت میں شامل رام پارٹی کے منصور عباس نے کہا کہ مارچ ‘علاقے کو آگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے’ اور اس کی نیت نئی حکومت کو نقصان پہنچانے کی ہے۔

فلسطینیوں کے خلاف جارحیت

منصور عباس نے کہا کہ پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے وزیر کو یہ پروگرام منسوخ کرنا چاہیے تھا۔

مغربی کنارے میں بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہنے مارچ کو ‘فلسطینیوں کے خلاف جارحیت’ قرار دیا۔

ہمسایہ ملک اردن میں وزارت خارجہ نے ایک میں بیان مارچ کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارچ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین پائے جانے والے تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.