کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر شفقت محمود نے طالبا کو بریفنگ دے دی

86

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہےکہ کورونا وائرس کی تیسری  کے پیش نظر وائرس سے متاثرہ اضلاع میں پہلی سے 8ویں جماعت تک تدریسی عمل 28 اپریل تک کرنے کے فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا ہے-

اجلاس کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپرشن سینٹیرمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر علاقے میں کورونا کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہیں-ہر ضلع کورونا وائرس سے زیادہ متاثر نہیں ہوا ہے-۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف کورونا سے متاثرہ اضلاع میں پہلی سے 8ویں تک تدریسی عمل 28 اپریل تک کے لیے نہیں ہو گا اور صوبے اپنی اپنی رپورٹ فراہم کریں گے- اس حوالے سے فیصلہ کریں گے کہ کونسے اضلاع متاثرہ ہیں اور یہ پابندی کن اضلاع پر قائم کرنا ہو گی-

انہوں نے مزید کہا کہ، کہ اس حوالے سے مزید تعلیم سے متعلق مشاورت 28 اپریلکی جائے گی – جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ عید سے پہلے چند کلاسزشروع ہونی چاہیے یا نہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت میں تدریسی عمل 19 اپریل سے متاثرہ اضلاع سمیت دیگر تمام اضلاع میں جاری کیا جائے گا تاکہ بچے امتحانات کی تیاری بھرپور طریقےسے کرسکیں۔

یونیورسٹیز کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں یونیورسٹیزکے لئے بھی وہی عمل دہرایا جائے گا- متاثرہ اضلاع میں بند رہیں گی، اور وہاں آن لائن کلاسز ہوں گی اسکے برعکس جو علاقے متاثرہ نہیں وہ معمول کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں گے۔

امتحانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے امتحانات مئی کے تیسرے ہفتے میں لئے جائے گے-

ان کا کہنا تھا کہ امتحانات کی تاریخ اس لیے بڑھائی گئی ہے تاکہ کورونا کے حالات اس وقت تک قابو پا سکے، کچھ بہتر ہوجائیں تاہم امتحانات کوکچھ دیر کے لئےڈیلے نہیں کیا جائے گا

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہاں داخلوں کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ جب امتحانات دیر سے ہوں گے تو ان کے نتائج بھی دیر سے آئیں گے اور پھر یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے مزید وقت چاہیے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کیمبرج کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 85 ہزار بچے ‘او لیول’ اور ‘اے لیول’ کے امتحانات دیں گے جس کے حوالے سے تمام صوبائی وزرا نے ان کو جاری رکھنے کی تجویز دی ہے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ متعدد لوگ کہہ رہے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک میں امتحانات نہیں ہورہے یہ درست نہیں، بنگلہ دیش کے علاوہ تمام ممالک میں امتحانات ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے امتحانات کی تیاری کریں، امتحانات دینے ضروری ہیں اور یہ لازمی ہوں گے اور ایس او پیز کے مطابق ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں صرف بچوں کی تعلیم کو بہتربنانا ہے، کوشش ہے کہ بچوں کے اسکول جلد از جلد کھول دیے جائیں- کیونکہ ان کی تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے-

واضح رہے کہ کووِڈ-19 کے اعداد و شمار کے لیے بنائی گئی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل 3 ہزار 953 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 103سے زیادہ مریض وبا کا شکار ہو گئے۔

وائرس کی تشخیص کے لیے 5 اپریل کو مجموعی طور پر 46 ہزار 665 ٹیسٹس کر لئےگئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 8.4 فیصد رہی جبکہ فعال کیسز 63 ہزار 102 سے تجاوز کر چکے ہیں-

ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک کورونا وائرس سے 6 لاکھ 96 ہزار 184 افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 14 ہزار 924 زندگی سےہاتھ دھو بیٹھے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.