اسانی سمگلنگ کرنے والے پاکستانی مافیہ کا پردہ فاش

194

نوشہرہ کی ایک ٹریول ایجنسی کو ٹرانزیشنل کرمنل آرگنائزیشن (ٹی سی او) اور اس کے سربراہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے اور 3 معاونیشن کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث ان کا مدگار قرار دے دیا ہے-

اس حوالے سے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول کے محکمے نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا، کہ عابد علی خان ٹی سی او، نوشہرہ پاکستان کی ایک انسانی اسمگلنگ کی تنظیم ہے جس نے امریکا اور دوسرے ممالک میں غیر ملکی شہریوں کی غیر قانونی اسمگلنگ میں سہولیات مہیا کرنے میں برابر کا ساتھ دیا ہے-

رپورٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ جن افراد کو امریکا میں سمگلنگ کے زریعےلایا گیا ہے،ان میں ‘وہ غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں ،جو امریکا کی ریاست اورسلامتی یا اس کے مفادات کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتے ہیں’۔

محکمے نے انکشاف کیا ہے کہ، اس مافیہ کےافراد اور ان کی ایجنسی تقریباً 2015 سے لاطینی امریکا کے ذریعے علیحدہ علیحدہ سفری راستے استعمال کررہے تھے۔

او ایف اے سی کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ‘یہ حیثیت دینا پاکستان اور دنیا بھر میں ان کے کاموں کو متاثر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، عابد علی خان ٹی سی او کو کمزوروں پر ظلم کرنے اور امریکا کے مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھانے سے روکنا چاہیئے۔

امریکا کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نکولس میک قائد کا کہنا تھا کہ ‘عابد علی خان نے مبینہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی اسمگلنگ تنظیم کو قائم کیا ہے، اور اس کی سربراہی کی جو مختلف ممالک کے ذریعے اور امریکا میں لوگوں کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ان کی مدد کرنے میں برابر کا شریک ہے-

ہوم لینڈ سیکیورٹی تحقیقات کے میامی اسپیشل ایجنٹ انچارج انتھونی سیلسبری کا کہنا تھا کہ، ان کی تحقیقات میں یہ یہ حقیقت سامنے آئی ہے، آیا کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکا میں چلنے والا اسمگلنگ نیٹ ورک نظام کی کمزوریوں کا استحصال کررہا ہے تاکہ مذموم محرکات رکھنے والے لوگوں کو امریکا اور کسی اور مقام پر منتقل کریں۔
انسانی اسمگلنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے جو صرف لاطینی امریکا میں سالانہ 15 کروڑ سے 35 کروڑ ڈالر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے-

اس کاروبار میں شامل ہونے والے افراد کے لیے ان کے کلائنٹس کا تحفظ اور سلامتی کمائے جانے والے منافع سے کہیں کم اہمیت کی حامل ہے اور بہت سے تراستوں میں ہی مر جاتے ہیں۔

او ایف اے سی کے بیان میں پاکستانی شہری عابد علی خان کو خیبرپختونخوا کے ضلع نو شہرہ کی انسانی اسمگلنگ تنظیم کا سربراہ ہونے کے طور پر پہچان لیا گیا ہے۔

ا عالمی نیٹ ورک کاانسانی اسمگلروںاوسطاً ہر شخص سے 20 ہزار ڈالر کی رقم وصول کرنے کے بعد اس میں جعلی دستاویزات کی خریداری، بدعنوان افسران کو رقم کی ادائیگی اسمگلنگ کے راستوں پر محفوظ ٹھکانے اور مختلف ممالک میں موجود سہولت کاروں کو کی جانے والی مختلف ادائیگیاں شامل ہیں۔

او ایف اے سی نے عابد علی خان کے 3 ساتھیوں کو بھی انسانی اسمگلنگ میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ ھصہ لینےپر پہچان لیا ہے ،جس میں افغان شہری ریدی حسین کھل گل ان کے سیکریٹری کے طور پر کلائنٹس سے رابطے کرنے، سفری سہولیات اور جعلی دستاویزات حاصل کرنے کے امار انجام دیتا ہے-

علاوہ ازیں ایک اور پاکستانی شہری وڑائچ مشرق وسطیٰ میں عابد علی خان کے رابطے اور امریکا میں سفری سہولیات کے لیے کام کرتا ہے

اس کے علاوہ پاکستانی شہری شکیل کریم ان کا ملازم ہے جو پناہ گزینو ں کے سفر کرنےمیں مدد درکار کرتا ہے- کے لیے فرینڈز ٹریول ان پرائیویٹ لمیٹڈ استعمال کرتا ہے۔

۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.